آنکھیں تو مانگتی ہیں اذنِ وغائے دل
ثابت قدم تھی صبر پہ لیکن بقائے دل
جب پڑ چکے ہوں پیاس سے کانٹے زبان پر
کس لب سے تم بتاؤ کہ پھر مسکرائے دل
عُریاں پڑا تھا راہ میں لاشہ جنون کا
غیرت یہ کہہ رہی تھی؛ اُڑھا دو ردائے دل
اُکتا چکا ہوں میں بھی مسلسل سکون سے
خاموش کیوں ہے، کوئی تو فتنہ اُٹھائے دل
یہ کیا کہ بڑھ کے دُشمنِ جاں سے ملائے ہاتھ
اپنا ہے گر، تو وقت پہ کچھ کام آئے دل
اتنی جگہ کہاں کہ محبت کو رکھ سکے
وُسعت کچھ اور چاہتا ہے تنگ ہائے دل
اشکِ عزا کے واسطے، فرشِ عزا نہ ہو
ایسے میں کیا سنائے کوئی درد ہائے دل
حسن امام رضوی
No comments:
Post a Comment