Monday, 12 September 2022

کلی کلی کے بجا رازدار ہیں ہم لوگ

 کلی کلی کے بجا رازدار ہیں ہم لوگ

چمن کو فخر ہے جن پر وہ خار ہیں ہم لوگ

لہو سے اپنے گلستاں کو سبزہ زار کیا

بہت خلوص کے آئینہ دار ہیں ہم لوگ

حقیر جان کے ٹھکرا رہے ہیں اہل چمن

چمن میں اپنی جگہ خود بہار ہیں ہم لوگ

کچھ ایسا گردش دوراں کا دیکھتے ہیں فسوں

کہ آج اہلِ گلستاں پہ بار ہیں ہم لوگ

ستم یہ ہے کہ زمانہ کا غم اٹھانے پر

قرار پاتے نہیں بے قرار ہیں ہم لوگ

یہی ہے دعوت عیش و نشاط روز و شب

خوشی کا ذکر نہیں اشکبار ہیں ہم لوگ

ہمارے عہدِ گزشتہ کی دیکھیے تاریخ

خود اپنی شان میں ذی افتخار ہیں ہم لوگ

قدم قدم پہ مصائب اٹھا رہے ہیں خضر

خدا گواہ کہ پھر غمگسار ہیں ہم لوگ


خضر برنی

No comments:

Post a Comment