مگر ہم نے بتانا ہے
ہمیں وہ ذائقہ چکھ کر بتانا ہے
جو چکھیں تو بتایا جا نہیں سکتا
کلائی کاٹ لیں اپنی
تو بہہ جائیں تڑپ کر دھڑکنیں ساری
لگائیں پھانس گردن میں
تو اک جھٹکے میں سانسوں کو جھٹک ڈالیں
ذرا سا زہر مل جائے
تو خوں کو سنگ کر ڈالے
بس اک بارود کی چُٹکی سے
چھت اُڑ جائے دنیا کی
بدن پر تیل چھڑکا ہو
تو چنگاری سے دوزخ راکھ ہو جائے
اگر زینہ ہٹا کر اس بلندی سے اُتر جائیں
تو پستی کو گِرا دیں ہم
بدن کو سرد پٹڑی پر بچھائیں
اور رستوں کو ہٹا دیں ہم
مگر یہ سب مناظر ایک جیسے ہیں
جنہیں تک کر دکھایا جا نہیں سکتا
صدائے ناشنیده ناشنیدہ ہے
جسے سُن کر سُنایا جا نہیں سکتا
یہی وہ ذائقہ ہو گا
جسے چکھ کر بتایا جا نہیں سکتا
مگر ہم نے بتانا ہے
کہ لمحے جاں کُنی کے
زندگی پر کیسے بیتے ہیں
تو آؤ مرگِ دوراں میں
ابھی کچھ دیر جیتے ہیں
سید مبارک شاہ ہمدانی
No comments:
Post a Comment