Monday, 12 September 2022

تو آؤ مرگ دوراں میں ابھی کچھ دیر جیتے ہیں

 مگر ہم نے بتانا ہے

ہمیں وہ ذائقہ چکھ کر بتانا ہے

جو چکھیں تو بتایا جا نہیں سکتا

کلائی کاٹ لیں اپنی 

تو بہہ جائیں تڑپ کر دھڑکنیں ساری 

لگائیں پھانس گردن میں

تو اک جھٹکے میں سانسوں کو جھٹک ڈالیں 

ذرا سا زہر مل جائے 

تو خوں کو سنگ کر ڈالے 

بس اک بارود کی چُٹکی سے 

چھت اُڑ جائے دنیا کی

بدن پر تیل چھڑکا ہو 

تو چنگاری سے دوزخ راکھ ہو جائے 

اگر زینہ ہٹا کر اس بلندی سے اُتر جائیں 

تو پستی کو گِرا دیں ہم 

بدن کو سرد پٹڑی پر بچھائیں 

اور رستوں کو ہٹا دیں ہم

مگر یہ سب مناظر ایک جیسے ہیں

جنہیں تک کر دکھایا جا نہیں سکتا 

صدائے ناشنیده ناشنیدہ ہے

جسے سُن کر سُنایا جا نہیں سکتا 

یہی وہ ذائقہ ہو گا

جسے چکھ کر بتایا جا نہیں سکتا 

مگر ہم نے بتانا ہے

کہ لمحے جاں کُنی کے 

زندگی پر کیسے بیتے ہیں

تو آؤ مرگِ دوراں میں 

ابھی کچھ دیر جیتے ہیں


سید مبارک شاہ ہمدانی 

No comments:

Post a Comment