بپتا
ہے بات بڑے غم کی بپتا یہ ہماری
دائروں کے سفر میں ہے عمر گزاری
سات دہائیوں سے تماشا ہے یہ جاری
منصف ہے جمورا تو محافظ ہے مداری
سانپ بھی نکلیں گے کبوتر بھی اڑیں گے
کھیل شروع ہوتا ہے کُھلتی ہے پٹاری
خود بھی دکھاتا ہے کمالات عجب سے
کہیں بچہ جمورا ہی نہ بن جائے مداری
ریچھ ہو بندر ہو کتا ہو یا بکرا
کٹھ پتلی نئی ہو گی نیا ہو گا کھلاڑی
بندر بھی اچھل کود کریں لے کے ترازو
اب تو سزا پانے کی ہے شیر کی باری
روباه و سگ و کاگ سبھی خر کے چلو ساتھ
شیر مقید ہوا ہانکے پہ شکاری
قوم نے دیکھی ہے بہت شعبدہ بازی
ذوقِ تماشا ہے مگر جاری و ساری
دھرتی سے وفا اور محبت ہے جرم یاں
لازم ہے سزا اس کی یہ جرم ہے بھاری
قائدِ ملت ہو یا ہو دخترِ جمہور
اندھی سی کوئی گولی سینے میں اتاری
دار و رسن، طوقِ مذلت یا سلاسل
رہبر ہو یا مادر ہو کوئی درد کی ماری
اس رات کے آخر میں سحر آئے گی پر نور
ہم نے تو اسی آس میں ہر رات گزاری
ضیاء المظہری
No comments:
Post a Comment