Monday, 12 September 2022

ہے بات بڑے غم کی بپتا یہ ہماری

 بپتا


ہے بات بڑے غم کی بپتا یہ ہماری

دائروں کے سفر میں ہے عمر گزاری

سات دہائیوں سے تماشا ہے یہ جاری

منصف ہے جمورا تو محافظ ہے مداری


سانپ بھی نکلیں گے کبوتر بھی اڑیں گے

کھیل شروع ہوتا ہے کُھلتی ہے پٹاری

خود بھی  دکھاتا ہے کمالات عجب سے

کہیں بچہ  جمورا ہی نہ بن جائے مداری


ریچھ ہو بندر ہو کتا ہو یا بکرا

کٹھ پتلی نئی ہو گی نیا ہو گا کھلاڑی

بندر بھی اچھل کود کریں لے کے ترازو

اب تو سزا پانے کی ہے شیر کی باری


روباه و سگ و کاگ سبھی خر کے چلو ساتھ

شیر مقید ہوا ہانکے پہ شکاری

قوم نے دیکھی ہے بہت شعبدہ بازی

ذوقِ تماشا ہے مگر جاری و ساری


دھرتی سے وفا اور محبت ہے جرم یاں

لازم ہے سزا اس کی یہ جرم ہے بھاری

قائدِ ملت ہو یا ہو دخترِ جمہور

اندھی سی کوئی گولی سینے میں اتاری


دار و رسن، طوقِ مذلت یا سلاسل

رہبر ہو یا مادر ہو کوئی درد کی ماری

اس رات کے آخر میں سحر آئے گی پر نور

ہم نے تو اسی آس میں ہر رات گزاری


ضیاء المظہری

No comments:

Post a Comment