عارفانہ کلام نعتیہ کلام
زمانے بھر کے لوگوں سے جدا اپنی ادا رکھنا
زمیں والوں سے ہو لیکن خدا سے بھی حیا رکھنا
مصیبت سے پریشانی سے سب کو ہی بچا رکھنا
"ہمیں اپنی پناہوں میں خداوندا سدا رکھنا"
زبانیں تر ہماری ہوں خدا کے ذکر سے ہر پل
نہ ہو دشنام ہونٹوں پر سدا حمد و ثنا رکھنا
ریا کاری سے دکھاوے سے ہمیشہ دور تُو رکھنا
مِرے مولا! مِرے ہر فعل میں اپنی رضا رکھنا
یہی سِکھلایا ہے اجداد نے آلِؑ محمدﷺ سے
جفا کا نام نہ لینا،۔ ہمیشہ ہی وفا رکھنا
صحابہؓ اور اہلِ بیتؑ سے الفت مؤدت ہو
نبیِؐ کی آلؑ کی خاطر ہی تن من دھن فدا رکھنا
ملی تجھ کو ہے یہ دولت سخن فہمی کی مسعودہ
دیا ہے رب نے جو تجھ کو ذہن میں وہ عطا رکھنا
مسعودہ ریاض
No comments:
Post a Comment