Monday, 12 September 2022

زمانے بھر کے لوگوں سے جدا اپنی ادا رکھنا

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


زمانے بھر کے لوگوں سے جدا اپنی ادا رکھنا

زمیں والوں سے ہو لیکن خدا سے بھی حیا رکھنا

مصیبت سے پریشانی سے سب کو ہی بچا رکھنا

"ہمیں اپنی پناہوں میں خداوندا سدا رکھنا"

زبانیں تر ہماری ہوں خدا کے ذکر سے ہر پل

نہ ہو دشنام ہونٹوں پر سدا حمد و ثنا رکھنا

ریا کاری سے دکھاوے سے  ہمیشہ دور تُو رکھنا

مِرے مولا! مِرے ہر فعل میں اپنی رضا رکھنا

یہی سِکھلایا ہے اجداد نے آلِؑ محمدﷺ سے

جفا کا نام نہ لینا،۔ ہمیشہ ہی وفا رکھنا

صحابہؓ اور اہلِ بیتؑ سے الفت مؤدت ہو

نبیِؐ کی آلؑ کی خاطر ہی تن من دھن فدا رکھنا

ملی تجھ کو ہے یہ دولت سخن فہمی کی مسعودہ

دیا ہے رب نے جو تجھ کو ذہن میں وہ عطا رکھنا


مسعودہ ریاض

No comments:

Post a Comment