عارفانہ کلام منقبت سلام
دیں کے دشمن جو نہ مسند پہ بٹھائے جاتے
پھر وہ منظر نہ زمانے کو دکھائے جاتے
اکبرؑ و قاسمؑ و سباسؑ نہ یوں ہوتے شہید
حلقِ اصغرؑ پہ نہ پھر تیر چلائے جاتے
پاس ہوتا جو اگر شاقئ کوثرﷺ کا تو پھر
ہائے معصوم نہ پیاسے وہ رُلائے جاتے
جُھمکے لُٹنے نہ کبھی سر سے وہ چادر چِھنتی
پھر صحیفے نہ وہ نیزوں پہ چڑھائے جاتے
کام آیا تو فقط خونِ بُو طالب آیا
ورنہ مشکل تھا کہ ایمان بچائے جاتے
جس ہتھلی پہ ہوں پنجتنؑ کے کرم کے ٹکڑے
ہاتھ ایسے نہیں ہر در پہ پھلائے جاتے
پاک زہراؑ کی ہے دہلیز جہاں سے شائق
ان کے منگتے نہیں مایوس لوٹائے جاتے
امتیاز احمد شائق
No comments:
Post a Comment