اور کچھ دن قیام کر مِرے ساتھ
میری وحشت تمام کر مرے ساتھ
مجھ اکیلے سے کچھ نہیں ہو گا
تُو مِرا انہدام کر مرے ساتھ
جیسے حق ہے تمام کرنے کا
اس طرح سے تمام کر مرے ساتھ
یہ مِرے سامنے سفید ہوا
پیڑ کا احترام کر مرے ساتھ
جیسے حق ہے تمام کرنے کا
اس طرح سے تمام کر مرے ساتھ
دیکھ! باتوں کا بھوکا شخص ہوں میں
چپ نہ کر بس کلام کر مرے ساتھ
فاخر رضوی
No comments:
Post a Comment