Friday, 9 September 2022

خواب اک پرندہ ہے آنکھ کے قفس میں

 خواب اک پرندہ ہے


خواب اک پرندہ ہے

آنکھ کے قفس میں یہ

جب تلک مقید ہے

عکس بن کے زندہ ہے

خواب اک پرندہ ہے

خواب اک پرندہ ہے

زرد موسموں میں بھی

خوشگوار یادوں کو

تازہ کار رکھتا ہے

آنے والے موسم کے

گیت گنگناتا ہے

شاخ شاخ پر مہکے

پھول چُن کے لاتا ہے

اور پھر ہوا کے دوش

خوشبوؤں کا ساتھی ہے

خواب اک پرندہ ہے

خواب اک پرندہ ہے

زیست کے سمندر میں

خواہشیں جزیرہ ہیں

اور اس جزیرے میں

خوف کا اندھیرا ہے

اور اس اندھیرے میں

خواب سا پرندہ ہے

صبح کا ستارہ ہے

دن کا استعارہ ہے


علی اصغر عباس

No comments:

Post a Comment