Friday, 16 September 2022

اب تو آ جاؤ خیالوں سے نکل کر میرے

 اب تو آ جاؤ خیالوں سے نکل کر میرے

اے مِرے سامنے بیٹھے ہوئے دلبر میرے

کوئی تعویذ، کوئی وِرد بتائیں مرشد

عشق کا بھوت سوار اب بھی ہے سر پر میرے

ساری دنیا سے لڑا یار میں جس کی خاطر

پیٹھ میں گھونپ دیا اس نے بھی خنجر میرے

تیرے احباب کی تعداد، بلا سے میری

تیرے نو لاکھ سے بڑھ کر ہیں بہتّر میرے

کون کافر ہے جو کہتا ہے مجھے عشق نہیں

کس نے دیکھے نہیں آنکھوں میں سمندر میرے

چاہے جتنے بھی حسیں لوگ جہاں میں آئیں

تیری نعلین برابر نہیں اکبر میرے

مجھ کو سلطان نہیں خوف کوئی محشر کا

خُلد کے مالک و مختار ہیں رہبر میرے


علی سلطان

No comments:

Post a Comment