پابندیاں ہیں میرے ہی اظہار پر
زاغ و زغن کا شور ہے مردار پر
تاثیر ہے کس کے لہو کو دیکھیے
سبزہ اُگا ہے آہنی تلوار پر
دلکش حسیں پوشاک ہو یا جسم ہو
مرکوز ہے میری نظر بازار پر
میرے لیے کوئی خبر آتی نہیں
اور سامنے اخبار ہے اخبار پر
موسم عجب حالات سے دو چار ہے
بادل نہیں طائر نہیں اشجار پر
دل سے جگر سے خون سے واقف کیا
احسان ہے امراض کا بیمار پر
یہ شہر ہے یا کوئی زنداں کیا کہیں
شاہد! یہاں دیوار ہے دیوار پر
محمود شاہد
No comments:
Post a Comment