جو نہیں ہے وہ یارِ تنہائی
جاں کو ڈستا ہے مارِ تنہائی
تیرے گلشن میں مضطرب ہیں ہم
دل میں چُبھتے ہیں خارِ تنہائی
روز ان کا حساب رکھتے ہیں
رنج و غم بے شمارِ تنہائی
عشق کے جس مقام پر ہیں ہم
ہے رسن اور دارِ تنہائی
بہتریں دوست آپ کی بھی ہے
آپ بھی تو ہیں یارِ تنہائی
ساتھ میرے اگر وہ رہتا تو
ٹوٹ جاتا قرارِ تنہائی
زیست کا بوجھ اٹھ نہیں سکتا
جب اٹھایا ہے بارِ تنہائی
ماورا عنایت
No comments:
Post a Comment