عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خدا پسند کرے ہر ادا کے لہجے میں
ہے کتنی سادہ روی مصطفیٰؐ کے لہجے میں
نزولِ حق ہے کلام خدا کے لہجے میں
قبول شہؐ نے کیا ہے رضا کے لہجے میں
کمال کنبۂ سادات بھی انوکھا ہے
حیات سب کی کٹی مصطفیٰؐ کے لہجے میں
خدا کا کام خدا ہی کرے تو بہتر ہے
درود کون پڑھے گا خدا کے لہجے میں
خدا کا خوف ہے جن میں وہ متقی بن کر
خدا سے مانگتے ہیں التجا کے لہجے میں
منافقین نے جب عائشہؓ پہ طنز کیا
پیام آیا خدا کا خدا کے لہجے میں
خدا نے قاسمِ نعمت انہیں بنایا ہے
وہ دے رہے ہیں ہمیں سب رضا کے لہجے میں
تمام امتیں کرتی رہیں رشک اب ہم پر
یہ دین ہم کو ملا ہے جزا کے لہجے میں
معاف کر دیا سارے گناہ گاروں کو
یہ فیصلہ ہے نبیؐ کا خدا کے لہجے میں
اٹھو نمازیوں مسجد کی سمت آ جاؤ
اذان ہونے لگی ہے بقا کے لہجے میں
جو ان کے سامنے آیا وہ ہو گیا ان کا
کوئی ہے بات شہِ دوسراؐ کے لہجے میں
سبق دیا ہے صحابہ کو خاکساری کا
کوئی بھی بات نہ کرنا انا کے لہجے میں
حبیب پاکؐ کا جب لب پہ نام آ جائے
درود بھیجیے صلی علیٰﷺ کے لہجے میں
نبیﷺ کی آنکھ کی ٹھنڈک نماز ہے پارس
تو احترام سے جھک جا وفا کے لہجے میں
تلک راج پارس
No comments:
Post a Comment