عارفانہ کلام نعتیہ کلام
حالِ دل کس کو سنائیں آپﷺ کے ہوتے ہوئے
کیوں کسی کے در پہ جائیں آپؐ کے ہوتے ہوئے
اپنا جینا، اپنا مرنا، اب اسی چوکھٹ پہ ہے
ہم کہاں سرکارؐ جائیں، آپؐ کے ہوتے ہوئے
میں یہ کیسے مان جاؤں شام کے دربار میں
چھین لے کوئی ردائیں آپؐ کے ہوتے ہوئے
یہ تو ہو سکتا نہیں، یہ بات ممکن ہی نہیں
میرے گھر آلام آئیں آپؐ کے ہوتے ہوئے
سامنے ہے اے علیؑ کے لعل اُسوہ آپ کا
کیوں کسی کا خوف کھائیں آپ کے ہوتے ہوئے
شانِ محبوبی دکھائی جائے گی محشر کے دن
کون دیکھے گا خطائیں آپؐ کے ہوتے ہوئے
میں غلامِ مصطفٰیﷺ ہوں یہ میری پہچان ہے
غم مجھے کیونکر ستائیں، آپؐ کے ہوتے ہوئے
کہہ رہا ہے آپؐ کا رب؛ اَنتَ فِیھِم آپﷺ سے
میں انہیں دوں کیوں سزائیں آپؐ کے ہوتے ہوئے
کون ہے الطاف! اپنا حالِ دل کس سے کہیں؟
زخمِ دل کس کو دکھائیں، آپؐ کے ہوتے ہوئے
سید الطاف حسین کاظمی
No comments:
Post a Comment