Thursday, 8 September 2022

دل کو یہ بات سمجھنے میں بہت دیر لگی

 دل سے جاتے نہیں جو لوگ چلے جاتے ہیں

دل کو یہ بات سمجھنے میں بہت دیر لگی

زندگی ہم تِرے کند ذہن سے شاگرد جنہیں

کچھ سوالات سمجھنے میں بہت دیر لگی

کون دشمن ہے کسے دوست سمجھنا ہے یہاں

ہم کو حالات سمجھنے میں بہت دیر لگی

ہم نے اس کھیل کو بس کھیل کی حد تک سمجھا

مات کو مات سمجھنے میں بہت دیر لگی

پیڑ کٹتے ہی پرندے بھی چلے جاتے ہیں

کچھ روایات سمجھنے میں بہت دیر لگی

وہ اچانک سے، لکیروں سے نکل کیسے گیا

دیکھ کر ہاتھ، سمجھنے میں بہت دیر لگی


عاصم رضا

No comments:

Post a Comment