Monday, 9 November 2015

ہم نصیب

ہم نصیب 

اداسی تیرے چہرے پر کچھ ایسے
عجب سا رنگ لاتی جا رہی ہے
کہ جیسے پھول کمہلا رہے ہوں
کہ جیسے کہکشاں شرما رہی ہو
تجھے خوفِ جدائی ڈس رہا ہے
نگاہوں میں ہیں تنہائی کی راتیں
تِرا دل رو رہا ہے سوچ کر یہ
کہے گا کس سے اپنے غم کی باتیں
مگر یہ بھی تمہیں معلوم ہو گا
مِری اپنی بھی کچھ مجبوریاں ہیں
مقدر میں رضاؔ کے بھی تو پیارے
یہی تنہائیاں ہیں، دوریاں ہیں

صابر رضا

No comments:

Post a Comment