ہم نصیب
اداسی تیرے چہرے پر کچھ ایسے
عجب سا رنگ لاتی جا رہی ہے
کہ جیسے پھول کمہلا رہے ہوں
کہ جیسے کہکشاں شرما رہی ہو
تجھے خوفِ جدائی ڈس رہا ہے
تِرا دل رو رہا ہے سوچ کر یہ
کہے گا کس سے اپنے غم کی باتیں
مگر یہ بھی تمہیں معلوم ہو گا
مِری اپنی بھی کچھ مجبوریاں ہیں
مقدر میں رضاؔ کے بھی تو پیارے
یہی تنہائیاں ہیں، دوریاں ہیں
صابر رضا
No comments:
Post a Comment