Monday, 9 November 2015

دست طلب کو رنگ حنائی تو دے کبھی

دستِ طلب کو رنگِ حنائی تو دے کبھی
اے پرتوِ خیال! دکھائی تو دے کبھی
آ کر اتر رگوں میں، لہو میں رواں تو ہو
اندر سے تیری چاپ سنائی تو دے کبھی
بے سمت راستوں کو ملے سمت کی عطا
اس رائیگاں سفر سے رہائی تو دے کبھی
میرے لہو میں روح میں، دل میں ہے تُو ہی تُو
باہر نکل کے مجھ کو دکھائی تو دے کبھی
کچھ بھی تو زندگی میں مکمل نہ مل سکا
صابر رضاؔ کو ساری خدائی تو دے کبھی

صابر رضا

No comments:

Post a Comment