زبانِ فطرت سے ان دنوں میں نئے نئے راز سن رہا ہوں
مجھے یہ محسوس ہو رہا ہے خود اپنی آواز سن رہا ہوں
ہر اہلِ دل کی زباں پہ یکساں فسانۂ زندگی نہیں ہے
کسی سے انجام سن رہا ہوں میں ، کسی سے آغاز سن رہا ہوں
مجھے تو کوئی ملا نہ ایسا جو مرنے والوں کو زندہ کر دے
خبر نہیں امن کے اندھیرے میں کون خنجر چلا رہا ہے
کراہتی، ڈوبتی، سسکتی دلوں کی آواز سن رہا ہو
سنا ہے اک لشکر عنادل مٹانے آیا ہے رسمِ زنداں
قفس کے نزدیک کچھ دنوں سے میں شور پرواز سن رہا ہوں
ملے گا نغمہ کوئی تو ایسا کہ ہو گی جس پر حیات رقصاں
شکیلؔ میں دل کی انجمن میں صدائے ہر ساز سن رہا ہوں
شکیل بدایونی
No comments:
Post a Comment