سرِ مقتل سنا ہے بہرِ قتل عام آتا ہے
وہ ظالم جس کو لے دے کر یہی اک کام آتا ہے
لیے اک شعلہ رو کا بزم میں پیغام آتا ہے
لباسِ آتشیں پہنے چراغِ شام آتا ہے
مِری کوتاہئ قسمت کو دیکھیں میکدے والے
ارے او بھُولنے والے اسے بھُولا نہیں کہتے
سحر کا جانے والا گر قریبِ شام آتا ہے
پھریں وہ پتلیاں دیکھو، اڑا وہ رنگ چہرے کا
مبارک ہو شبِ غم! موت کا پیغام آتا ہے
زبان و دل بہم اک دوسرے پر ناز کرتے ہیں
مِرے لب پر الہیٰ آج کس کا نام آتا ہے
یہ قسمت اپنی اپنی ہے کہ بزمِ یار ہے بیدمؔ
کوئی تو کامیاب آیا، کوئی ناکام آتا ہے
بیدم شاہ وارثی
No comments:
Post a Comment