کیا سنائے مبتلائے دردِ دل
کیا سنو گے ماجرائے دردِ دل
آپ ہی نے درد بخشا ہے مجھے
آپ ہی دیں گے دوائے دردِ دل
دردِ دل سے زندگی ہے زندگی
انتہائے درد اس کا نام ہے
دل کو ڈھونڈے اور نہ پائے دردِ دل
موت کرتی ہے علاجِ اہلِ درد
دردِ دل خود ہے دوائے دردِ دل
ہم نے دل سی چیز دے دی آپ کو
آپ کیا دیں گے سوائے دردِ دل
دردِ دل گر بانٹنے کی چیز ہو
بانٹ لیں اپنے پرائے دردِ دل
دردِ دل پیدا ہوا دل کے لیے
اور دلِ بیدمؔ برائے دردِ دل
بیدم شاہ وارثی
No comments:
Post a Comment