حشر بھی یونہی جائے گا اے دلِ بے قرار کیا
یونہی رہیں گے تشنہ کام تشنۂ دیدار کیا
مژدۂ فصلِ گُل، صبا! جا کے رقیب کو سنا
مجھ کو بہار سے غرض میرے لیے بہار کیا
یار کی جلوہ گاہ میں پردے پڑے تو یہ نہ پوچھ
دیر و حرم میں چشمِ شوق ڈھونڈ پھری پتہ نہیں
دل نے چھپا کے رکھ لیا نقشۂ روئے یار کیا
اپنی وفا کے ساتھ ان کی جفا بھی یاد ہے
روزِ شمار کے لیے اور رکھیں شمار کیا
بیدمِؔ خستہ دل کی روز آنکھیں ہیں ڈھونڈتی تجھے
طُور پہ گر کے کھو گئی برقِ جمالِ یار کیا
بیدم شاہ وارثی
No comments:
Post a Comment