لڑکھڑاتا کیوں ہے آخر بزم میں پیمانہ آج
یاد آئی کیا کسی کی لغزشِ مستانہ آج
ان کے آتے ہی ہوئی حالتِ میخانہ آج
شیشے پر شیشہ گرا پیمانے پر پیمانہ آج
ٹوٹی زاہد ہی کی توبہ بچ گیا پیمانہ آج
مست ہو جانے پہ بھی ساغر نہ چھوٹے ہاتھ سے
تیرے ہاتھوں لاج ہے اے لغزشِ مستانہ آج
ہو نہ ہو میرے ہی سوزِ عشق کا مذکور ہے
شمع سے کچھ کہہ رہا ہے بزم میں پروانہ آج
دل جگر دونوں ہی مشتاقِ شہادت ہیں مِرے
اے نگاہِ یار! کوئی وار ہو تُرکانہ آج
ہو گیا ٹھنڈا کلیجا، بجھ گئی دل کی لگی
شمع کے دامن سے لپٹا رہ گیا پروانہ آج
اٹھ گئے بیدمؔ کی آنکھوں سے حجاباتِ دوئی
ایک ہے اس کی نظر میں کعبہ و بتخانہ آج
بیدم شاہ وارثی
No comments:
Post a Comment