Monday, 11 January 2016

نہ پوچھو مصریو کیا چاہیے ہے

نہ پوچھو مصریو کیا چاہیے ہے
میں یوسفؑ ہوں، زلیخا چاہیے ہے
مسافر کو جو جنگل سے نکالے
وہ پگڈنڈی، وہ رستہ چاہیے ہے
قلم یا مؤ قلم سے کیا بتاؤں
جو صورت جو سراپا چاہیے ہے
نظر آتا ہے کم کم گلرخوں میں
مجھے جو ناک نقشہ چاہیے ہے
تمنا آپ ہی کی تھی، مگر اب
کوئی بھی آپ جیسا چاہیے ہے
تمہارا ہجر میں یہ حال آنکھو
تمہیں تو بس تماشا چاہیے ہے
شعورؔ اب تک اسی شے کی کمی ہے
وہی جو چاہیے تھا، چاہیے ہے

انور شعور​

No comments:

Post a Comment