Monday, 11 January 2016

نہ ہوں آنکھیں تو پیکر کچھ نہیں ہے

نہ ہوں آنکھیں تو پیکر کچھ نہیں ہے 
جو ہے باہر، تو اندر کچھ نہیں ہے
محبت، اور نفرت کے علاوہ 
جہاں میں خیر یا شر کچھ نہیں ہے 
مجھے چھوٹی بڑی لگتی ہیں چیزیں
یہاں شاید برابر کچھ نہیں ہے 
حقِیقت تھی سو میں نے عرض کر دی 
شکایت بندہ پرور! کچھ نہیں ہے 
نہ ہو کوئی شریکِ حال اس میں
تو انساں کے لیے گھر کچھ نہیں ہے
دریچہ کھول کر دیکھا تھا میں نے 
قریب و دور منظر کچھ نہیں ہے

انور شعور​

No comments:

Post a Comment