جینے کا نہ کچھ ہوش نہ مرنے کی خبر ہے
اے شعبدہ پرداز! یہ کیا طرزِ نظر ہے
سینے میں یہاں دل ہے نہ پہلو میں جگر ہے
اب کون ہے جو تشنۂ پیکان نظر ہے
ہے تابشِ انوار سے عالم تہہ و بالا
کچھ ملتے ہیں اب پختگئ عشق کے آثار
نالوں میں رسائی ہے نہ آہوں میں اثر ہے
ذروں کو یہاں چین نہ اجرامِ فلک کو
یہ قافلہ بے تاب کہاں گرمِ سفر ہے
خاموش یہ حیرت کدۂ دہر ہے اصغرؔ
جو کچھ نظر آتا ہے وہ سب طرزِ نظر ہے
اصغر گونڈوی
No comments:
Post a Comment