حسن کو وسعتیں جو دِیں، عشق کو حوصلہ دیا
جو نہ ملے، نہ مِٹ سکے مجھ کو وہ مدعا دیا
ہاتھ میں لے کے جامِ مے آج وہ مسکرا دیے
عقل کو سرد کر دیا، روح کو جگمگا دیا
دل پہ لیا ہے داغِ عشق کھو کے بہارِ زندگی
کچھ تو کہو یہ کیا ہوا، تم بھی تھے ساتھ ساتھ کیا
غم میں یہ کیوں سرور تھا، درد نے کیوں مزا دیا
اب نہ یہ مِری ذات ہے، اب نہ یہ کائنات ہے
میں نے نوائے عشق کو ساز سے یوں ملا دیا
عکس جمالِ یار کا آئینہ خودی میں دیکھ
یہ غمِ عشق کیا دیا، مجھ سے مجھے چھپا دیا
حشر میں آفتابِ حشر اور وہ شورِ الاماں
اصغرؔ بت پرست نے زلف کا واسطہ دیا
اصغر گونڈوی
No comments:
Post a Comment