Tuesday, 5 January 2016

حسن کو وسعتیں جو دیں عشق کو حوصلہ دیا​

حسن کو وسعتیں جو دِیں، عشق کو حوصلہ دیا​
جو نہ ملے، نہ مِٹ سکے مجھ کو وہ مدعا دیا ​
ہاتھ میں لے کے جامِ مے آج وہ مسکرا دیے​
عقل کو سرد کر دیا، روح کو جگمگا دیا ​
دل پہ لیا ہے داغِ عشق کھو کے بہارِ زندگی ​
اک گلِ تر کے واسطے میں نے چمن لٹا دیا ​
کچھ تو کہو یہ کیا ہوا، تم بھی تھے ساتھ ساتھ کیا ​
غم میں یہ کیوں سرور تھا، درد نے کیوں مزا دیا​
اب نہ یہ مِری ذات ہے، اب نہ یہ کائنات ہے​
میں نے نوائے عشق کو ساز سے یوں ملا دیا ​
عکس جمالِ یار کا آئینہ خودی میں دیکھ ​
یہ غمِ عشق کیا دیا، مجھ سے مجھے چھپا دیا ​
حشر میں آفتابِ حشر اور وہ شورِ الاماں​
اصغرؔ بت پرست نے زلف کا واسطہ دیا 

اصغر گونڈوی

No comments:

Post a Comment