اسرارِ عشق ہے دلِ مضطر لیے ہوئے
قطرہ ہے بے قرار سمندر لیے ہوئے
موجِ نسیم صبح کے قربان جانیے
آئی ہے بوئے زلفِ معنبر لیے ہوئے
کیا مستیاں چمن میں ہیں جوشِ بہار سے
قاتل نگاہِ یاس کی زد سے نہ بچ سکا
خنجر تھے ہم بھی اِک تہِ خنجر لیے ہوئے
پہلی نظر بھی آپ کی اُف کس بلا کی تھی
ہم آج تک وہ چوٹ ہیں دل پر لیے ہوئے
تصویر ہے کھنچی ہوئی ناز و نیاز کی
میں سرجھکائے اور وہ خنجر لیے ہوئے
میں کیا کہوں، کہاں ہے محبت کہاں نہیں
رگ رگ میں دوڑی پھرتی ہے نشتر لیے ہوئے
اصغرؔ حریمِ عشق میں ہستی ہی جرم ہے
رکھنا کبھی نہ پاؤں یہاں سر لیے ہوئے
اصغر گونڈوی
No comments:
Post a Comment