ہے دلِ ناکامِ عاشق میں تمہاری یاد بھی
یہ بھی کیا گھر ہے، کہ ہے برباد بھی، آباد بھی
دل کے مِٹنے کا مجھے کچھ اور ایسا غم نہیں
ہاں مگر اِتنا کہ، ہے اِس میں تمہاری یاد بھی
کِس کو یہ سمجھائیے نیرنگِ کارِ عاشقی
سینے میں دردِ محبت راز بن کر رہ گئے
اب وہ حالت ہے کہ، کر سکتے نہیں فریاد بھی
پھاڑ ڈالوں گا گریباں، پھوڑ لوں گا اپنا سر
ہے مِرے آفت کدے میں، قیس بھی، فرہاد بھی
کچھ تو اصغرؔ مجھ میں ہے، قائم ہے جس سے زندگی
جان بھی کہتے ہیں اس کو، اور ان کی یاد بھی
اصغر گونڈوی
No comments:
Post a Comment