Tuesday, 5 January 2016

دور ہی ایسا ہے جو دیکھیں اسے الٹا کہیں

دور ہی ایسا ہے جو دیکھیں اسے الٹا کہیں
جہل کو دانش کہیں ، بینا کو نابینا کہیں
شہرِ نو آباد کی یہ قربتیں ، یہ دوریاں
یعنی ہم برسوں کے ناواقف کو ہمسایا کہیں
ان کا کہنا ہے کہ ہر ظاہر کا باطن اور ہے
جاگتی آنکھیں جو دِکھلائیں اسے سپنا کہیں
وہ جو کر دے زندگی کا سارا منظر خوابگوں
کوئی آئے بھی نظر ایسا جسے تجھ سا کہیں
روز فرمائش کرے صورت گر دنیا کہ ہم
مصلحت کے چہرۂ یک چشم گو زیبا کہیں
ان میں کرتا ہے جو نا معتبر کو معتبر
وہ مدارِ قسمتِ انساں، جسے پیسا کہیں
کوئی کیوں جانے کہ ہم کب آئے کب رخصت ہوئے
زندگی کر لی، اِسے اب زحمتِ بے جا کہیں

آفتاب اقبال شمیم

No comments:

Post a Comment