دور ہی ایسا ہے جو دیکھیں اسے الٹا کہیں
جہل کو دانش کہیں ، بینا کو نابینا کہیں
شہرِ نو آباد کی یہ قربتیں ، یہ دوریاں
یعنی ہم برسوں کے ناواقف کو ہمسایا کہیں
ان کا کہنا ہے کہ ہر ظاہر کا باطن اور ہے
وہ جو کر دے زندگی کا سارا منظر خوابگوں
کوئی آئے بھی نظر ایسا جسے تجھ سا کہیں
روز فرمائش کرے صورت گر دنیا کہ ہم
مصلحت کے چہرۂ یک چشم گو زیبا کہیں
ان میں کرتا ہے جو نا معتبر کو معتبر
وہ مدارِ قسمتِ انساں، جسے پیسا کہیں
کوئی کیوں جانے کہ ہم کب آئے کب رخصت ہوئے
زندگی کر لی، اِسے اب زحمتِ بے جا کہیں
آفتاب اقبال شمیم
No comments:
Post a Comment