Wednesday, 6 January 2016

خط کے سوا وجود دو عالم تھا بے نشاں

خط کے سوا وجودِ دو عالم تھا بے نشاں
اس محویت سے خط تِرا پڑھتا رہا ہوں میں
نکلا تھا اک حسِیں کے تعاقب میں پیار سے
اب تک اسی نشے میں چلا جا رہا ہوں میں
اس سمت کھینچ لائی تھی دل کی تڑپ مجھے
برہم نہ ہو، ٹھہرتا نہیں، جا رہا ہوں میں
پہلے میں ناصحوں کے سِتم کا شکار تھا
اب اپنی جاں پہ آپ غضب ڈھا رہا ہوں میں
بے شک حضور ایسے ہی کرتے ہیں دل لگی
جی ہاں حضور، ٹھیک ہے فرما رہا ہوں میں
اے نا خدا! سفینے کی قسمت تیرے سپرد
ساحل سے بات کر کے ابھی آ رہا ہوں میں
جیسے گناہ کرنا کوئی سخت عیب ہے
ایسے گناہ کرنے سے ڈرتا رہا ہوں میں
یا رب! نئے نقوش نہ تخلیق کر ابھی
مِٹتے ہوئے نقوش کو چمکا رہا ہوں میں
دل سی حقیر چیز تِری بارگاہ میں 
اے دوست! اپنے عِجز سے شرما گیا ہوں میں
ہر چند تیری بزم سے جانا ہے دل کی موت
لیکن تُو خوش نہیں تو ابھی جا رہا ہوں میں
یوں اس کی اک نظر نے کیا ہے عدمؔ خراب
جیسے کہ رات بھر کہیں پیتا رہا ہوں میں

عبدالحمید عدم

No comments:

Post a Comment