Sunday, 10 January 2016

گزرے دنوں کی یاد برستی گھٹا لگے

گزرے دنوں کی یاد برستی گھٹا لگے
گزروں جو اس گلی سے تو ٹھنڈی ہوا لگے
مہمان بن کے آئے کسی روز اگر وہ شخص
اس روز بِن سجائے میرا گھر سجا لگے
میں اس لیے مناتا نہیں وصل کی خوشی
میرے رقیب کی نہ مجھے بد دعا لگے
وہ قحط دوستی کا پڑا ہے کہ ان دنوں
جو مسکرا کے بات کرے، آشنا لگے
ترکِ وفا کے بعد یہ اس کی ادا قتیلؔ
مجھ کو ستائے کوئی تو اس کو برا لگے

قتیل شفائی

No comments:

Post a Comment