ساون بھادوں ساٹھ ہی دن ہیں پھر وہ رُت کی بات کہاں
اپنے اشک مسلسل برسیں، اپنی سی برسات کہاں
چاند نے کیا کیا منزل کر لی، نکلا، چمکا, ڈوب گیا
ہم جو آنکھ جھپک لیں سو لیں اے دل ہم کو رات کہاں
پِیت کا کاروبار بہت ہے، اب تو اور بھی پھیل چلا
قیس کا نام سنا ہی ہو گا، ہم سے بھی ملاقات کرو
عشق و جنوں کی منزل مشکل سب کی یہ اوقات کہاں
ابن انشا
No comments:
Post a Comment