لوگ پوچھیں گے
لوگ پوچھیں گے کیوں اداس ہو تم
اور جو دل میں آئے سو کہیو
’یونہی ماحول کی گرانی ہے‘
’دن خزاں کے ذرا اداس سے ہیں‘
’کتنے بوجھل ہیں شام کے سائے‘
نام ان کا نہ درمیاں آئے
ان کی بابت خموش ہی رہیو
’کتنے بوجھل ہیں شام کے سائے‘
’دن خزاں کے ذرا اداس سے ہیں‘
’یونہی ماحول کی گرانی ہے‘
اور جو دِل میں آئے سو کہیو
لوگ پوچھیں گے کیوں اداس ہو تم
ابن انشا
No comments:
Post a Comment