Monday, 11 January 2016

دل درد میں گھلتا رہے یہ کس کو گوارا ہے

دل درد میں گھلتا رہے، یہ کس کو گوارا ہے
ہم کو تو مگر یارو! یہ درد ہی پیارا ہے
امید کا ہر لمحہ اب وصل کا لمحہ ہے
جب دور کنارا ہو، ہر موج کنارا ہے
اس زلف نے اپنے کو کیا کیا نہیں الجھایا
جس زلف کو خود ہم نے سو بار سنوارا ہے
وہ رات گئی انشاؔ، وہ بات گئی انشاؔ
اب کس لیے جیتے ہو، اب کس کا سہارا ہے

ابن انشا

No comments:

Post a Comment