زہے نبات لبی و خوشا شکر دہنی
وبال جاں ہے مگر آپ کی یہ کم سخنی
جو چاہے تیشہ اٹھا لے بشغلِ تیشہ زنی
ہر ایک شخص کا حصہ نہیں ہے کوہکنی
زمانے بھر سے ہے نازک مِرا خیالِ لطیف
جو ایک بار نظر پر بنی محبت میں
یہ کیا ستم ہے کہ دل پر ہزار بار بنی
یہی ہے مطلعِ موزوں یہی ہے جانِ غزل
مِری جمال طرازی، تمہاری سیم تنی
یہ کیا ہوا کہ چمن کو لگا رہی ہے آگ
ہماری شعلہ نوائی، گلوں کی شعلہ زنی
نہ جائے گا تِرا افلاسِ ذہن اے انساں
جو تجھ کو مِل بھی گئی دولتِ ہزار فنی
ہر اک دل میں اگر بعض ہے تو پھر اے عرشؔ
تمہارے واسطے لازم ہے سب کی دل شکنی
عرش ملسیانی
پنڈت بال مکند
No comments:
Post a Comment