محبت سوز بھی ہے ساز بھی ہے
خموشی بھی ہے آواز بھی ہے
نشیمن کے لیے بے تاب طائر
وہاں پابندئ پرواز بھی ہے
خموشی پہ بھروسا کرنے والے
ہے معراجِ خرد بھی عرشِ اعظم
جنوں کا فرشِ پا انداز بھی ہے
دلِ بے گانہ خو، دنیا میں تیرا
کوئی ہمدم، کوئی ہمراز بھی ہے
کبھی محتاج لے کا بھی نہیں یہ
کبھہ نغمہ رہیںِ ساز بھی ہے
کبھی تو دل ہے محوِ بے نیازی
کبھی طوفِ حریمِ ناز بھی ہے
میری خاموشئ دل پر نہ جاؤ
کہ اس میں روح کی آواز بھی ہے
ترانہ ہائے سازِ زندگی میں
اک آوازِ شکستہ ساز بھی ہے
عرش ملسیانی
پنڈت بال مکند
No comments:
Post a Comment