Monday, 11 January 2016

محبت سوز بھی ہے ساز بھی ہے

محبت سوز بھی ہے ساز بھی ہے
خموشی بھی ہے آواز بھی ہے
نشیمن کے لیے بے تاب طائر
وہاں پابندئ پرواز بھی ہے
خموشی پہ بھروسا کرنے والے
خموشی، درد کی غماز بھی ہے
ہے معراجِ خرد بھی عرشِ اعظم
جنوں کا فرشِ پا انداز بھی ہے
دلِ بے گانہ خو، دنیا میں تیرا
کوئی ہمدم، کوئی ہمراز بھی ہے
کبھی محتاج لے کا بھی نہیں یہ
کبھہ نغمہ رہیںِ ساز بھی ہے
کبھی تو دل ہے محوِ بے نیازی
کبھی طوفِ حریمِ ناز بھی ہے
میری خاموشئ دل پر نہ جاؤ
کہ اس میں روح کی آواز بھی ہے
ترانہ ہائے سازِ زندگی میں
اک آوازِ شکستہ ساز بھی ہے

عرش ملسیانی
پنڈت بال مکند

No comments:

Post a Comment