کھلوائیے نہ مجھ سے خلش کیوں جگر میں ہے
بندہ نواز! بات ابھی گھر کی گھر میں ہے
دل جل رہا ہے اشک مگر چشمِ تر میں ہے
ہمسایہ آگ دیکھ کے بھی اپنے گھر میں ہے
دل خون ہو کے قافلۂ اشکِ تر میں ہے
جبریل کو سنا ہے کہ آگے نہ بڑھ سکے
وہ کون سا مقام تِری رہ گزر میں ہے
میں نے جو اپنا نام بتایا انہیں قمرؔ
کہنے لگے کہ داغ دکھاؤ جگر میں ہے
استاد قمر جلالوی
No comments:
Post a Comment