Monday, 11 January 2016

کھلوائیے نہ مجھ سے خلش کیوں جگر میں ہے

کھلوائیے نہ مجھ سے خلش کیوں جگر میں ہے
بندہ نواز! بات ابھی گھر کی گھر میں ہے
دل جل رہا ہے اشک مگر چشمِ تر میں ہے
ہمسایہ آگ دیکھ کے بھی اپنے گھر میں ہے
دل خون ہو کے قافلۂ اشکِ تر میں ہے
جس میں رہے تھے آپ وہ منزل سفر میں ہے
جبریل کو سنا ہے کہ آگے نہ بڑھ سکے
وہ کون سا مقام تِری رہ گزر میں ہے
میں نے جو اپنا نام بتایا انہیں قمرؔ
کہنے لگے کہ داغ دکھاؤ جگر میں ہے

استاد قمر جلالوی

No comments:

Post a Comment