Monday, 11 January 2016

آیا پیغام تباہی کا ادھر سے پہلے

آیا پیغام تباہی کا ۔۔۔ ادھر سے پہلے
واسطہ مجھ کو پڑا ان کی نظر سے پہلے
فکر سامان کی ہوتی ہے نظر سے پہلے
اٹھنا پڑتا ہے مسافر کو سحر سے پہلے
دل تڑپتا ہے تو کھل جاتا ہے دردِ فرقت
بات مشہور ہوا کرتی ہے گھر سے پہلے
دل تو حاضر ہے پسند آ بھی گیا یا کہ نہیں
آپ یہ پوچھ تو لیں اپنی نظر سے پہلے
کیا خطا ان کی جو یہ کہہ دیا حال اچھا ہے
دیکھنے آئے تھے وہ دردِ جگر سے پہلے
لاکھ تڑپا کرے بیمارِ شبِ ہجر تو کیا
صبح ہونے کی نہیں چار پہر سے پہلے
اب تو وہ دیکھ کے تاروں کو بھی شرماتے ہیں
یہ نہ تھا حال ۔۔۔ ملاقاتِ قمرؔ سے پہلے

استاد قمر جلالوی

No comments:

Post a Comment