دیکھو تو تم کو کتنا غرورِ شباب ہے
یہ مِرا خط ہے اور یہ تمہارا جواب ہے
باقی بس اتنا عرصۂ روزِ حساب ہے
جب تک حضور آپ کے رخ پر نقاب ہے
میت پہ تم پکارتے ہو میں خموش ہوں
بے آزمائے ہم تمہیں دل دے تو دیں مگر
سرکار! آج کل کا زمانہ خراب ہے
اب تو قمرؔ کے سامنے آؤ گے تم ضرور
میدانِ حشر، اور یہ روزِ حساب ہے
استاد قمر جلالوی
No comments:
Post a Comment