Monday, 11 January 2016

خوب حیلہ ہے کہ پیمان کہن یاد نہیں

خوب حیلہ ہے کہ پیمانِ کہن یاد نہیں
اپنا وعدہ تجھے او وعدہ شکن یاد نہیں
مدتیں ہو گئیں صیاد نے چھوڑا ابھی تو کیا
تابِ پرواز نہیں ۔۔۔ راہِ چمن یاد نہیں
آج پھر مائلِ بے دار نظر آتا ہے
کل کے نالے تجھے اے چرخِ کہن! یاد نہیں
دشتِ وحشت نے تو کچھ جسم پہ چھوڑا ہی نہ تھا
رہ گئے کیسے یہ دو تارِ کفن یاد نہیں

استاد قمر جلالوی

No comments:

Post a Comment