خوب حیلہ ہے کہ پیمانِ کہن یاد نہیں
اپنا وعدہ تجھے او وعدہ شکن یاد نہیں
مدتیں ہو گئیں صیاد نے چھوڑا ابھی تو کیا
تابِ پرواز نہیں ۔۔۔ راہِ چمن یاد نہیں
آج پھر مائلِ بے دار نظر آتا ہے
دشتِ وحشت نے تو کچھ جسم پہ چھوڑا ہی نہ تھا
رہ گئے کیسے یہ دو تارِ کفن یاد نہیں
استاد قمر جلالوی
No comments:
Post a Comment