سچ کہو دل پر اثر کیا ہو گا ایسے تیر کا
توڑے دیتی ہے نِگہ جب آئینہ تصویر کا
بدگماں کو میری میت پر یقیں سکتے کا ہے
'حکم ہے، 'آئینہ دکھلاؤ مِری تصویر کا
بعد میرے میرا ساماں سب تبرک ہو گیا
اک نِگہ نے تیری طے کی صورتِ امید و بیم
سارا جھگڑا مِٹ گیا تدبیر اور تقدیر کا
حسن بے پردہ ہے یا رب کیا ہی غیرت آفریں
پانی پانی ہو گیا ہے آئینہ تصویر کا
شرح جانکاہئ عشق ایک غیر ممکن بات ہے
کاٹ کر لانا بہت آساں تھا جوئے شیر کا
لکھ لیا سب قصۂ بربادئ عمرِ عزیزؔ
کیا کلیجا تھا ہمارے کاتبِ تقدیر کا
عزیز لکھنوی
No comments:
Post a Comment