Wednesday, 6 April 2016

اگر کچھ ہم کو امید اثر ہوتی تو کیا ہوتا

اگر کچھ ہم کو امیدِ اثر ہوتی تو کیا ہوتا؟
ہماری آہ کوئی کارگر ہوتی تو کیا ہوتا؟
کیے ہیں ملکِ حسن و عشق میں برپا یہ ہنگامے
خدائی تیرے قبضے میں اگر ہوتی تو کیا ہوتا؟
مصیبت کا زمانہ ہے ہمیں دن رات یکساں ہے
جو شام آتی تو کیا ہوتا، سحر ہوتی تو کیا ہوتا؟
تغافل پر تِرے نازاں عزیزؔ عشق مشرف ہے
اگر لطف و محبت کی نظر ہوتی تو کیا ہوتا؟

عزیز لکھنوی

No comments:

Post a Comment