اگر کچھ ہم کو امیدِ اثر ہوتی تو کیا ہوتا؟
ہماری آہ کوئی کارگر ہوتی تو کیا ہوتا؟
کیے ہیں ملکِ حسن و عشق میں برپا یہ ہنگامے
خدائی تیرے قبضے میں اگر ہوتی تو کیا ہوتا؟
مصیبت کا زمانہ ہے ہمیں دن رات یکساں ہے
تغافل پر تِرے نازاں عزیزؔ عشق مشرف ہے
اگر لطف و محبت کی نظر ہوتی تو کیا ہوتا؟
عزیز لکھنوی
No comments:
Post a Comment