Wednesday, 6 April 2016

وہ جو میرے پاس سے ہو کر کسی کے گھر گیا

وہ جو میرے پاس سے ہو کر کسی کے گھر گیا
ریشمی ملبوس کی خوشبو سے جادو کر گیا
اک جھلک دیکھی تھی اس روئے دل آرا کی کبھی
پھر نہ آنکھوں سے وہ ایسا دلربا منظر گیا 
شہر کی گلیوں میں گہری تیرگی گریاں رہی
رات بادل اس طرح آئے کہ میں تو ڈر گیا
تھی وطن میں منتظر جس کی کوئی چشمِ حسیں
وہ مسافر جانے کس صحرا میں جل کر مر گیا
صبحِ کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیرؔ
ریل کی سیٹی بجی تو لہو سے بھر گیا

منیر نیازی

No comments:

Post a Comment