منظرِ رخصتِ دلدار، بھلایا نہ گیا
دل کئی روز تلک راہ پہ لایا نہ گیا
خانۂ دل کی تباہی کا دیں الزام کس کو
آپ کے بعد یہاں کوئی بھی آیا نہ گیا
خاک تصویر مصور سے بنے گی تیری
دے گیا خوب سزا مجھ کو کوئی کر کے معاف
سر جھکا ایسے کہ تا عمر اٹھایا نہ گیا
لاکھ دنیا نے میرے شعر پہ داد دی تو کیا
جس کی خاطر تھا لکھا، اس کو سنایا نہ گیا
وقت کے ساتھ صؔدا بدلے تعلق کتنے
تب گلے ملتے تھے، اب ہاتھ ملایا نہ گیا
صدا انبالوی
No comments:
Post a Comment