چلو کہ ہم بھی زمانے کے ساتھ چلتے ہیں
نہیں بدلتا زمانہ،۔۔ تو ہم بدلتے ہیں
بلا رہی ہیں ہمیں تلخیاں حقیقت کی
خیال و خواب کی دنیا سے اب نکلتے ہیں
بجھی ہے آگ کبھی پیٹ کی اصولوں سے
انہیں نہ تولیۓ تہذیب کے ترازو میں
گھروں میں انکے نہ چولھے نہ دیپ جلتے ہیں
مزاج تیرے غموں کا صدؔا نرالا ہے
کبھی غزل تو کبھی گیت بن کے ڈھلتے ہیں
صدا انبالوی
No comments:
Post a Comment