Wednesday, 21 December 2016

چلو کہ ہم بھی زمانے کے ساتھ چلتے ہیں

چلو کہ ہم بھی زمانے کے ساتھ چلتے ہیں 
نہیں بدلتا زمانہ،۔۔ تو ہم بدلتے ہیں
بلا رہی ہیں ہمیں تلخیاں حقیقت کی
خیال و خواب کی دنیا سے اب نکلتے ہیں
بجھی ہے آگ کبھی پیٹ کی اصولوں سے
یہ ان سے پوچھئیے جو گردشوں میں پلتے ہیں
انہیں نہ تولیۓ تہذیب کے ترازو میں
گھروں میں انکے نہ چولھے نہ دیپ جلتے ہیں
مزاج تیرے غموں کا صدؔا نرالا ہے
کبھی غزل تو کبھی گیت بن کے ڈھلتے ہیں

صدا انبالوی

No comments:

Post a Comment