جذبۂ شوق عبادت کی طرح ہوتا ہے
دیکھنا اس کو تلاوت کی طرح ہوتا ہے
سب سمجھتے ہوۓ ناداں وہ بننا اس کا
ایسا لگتا ہے ذہانت کی طرح ہوتا ہے
ناز و انداز سے ہر بار محبت کا فریب
بے خیالی میں کوئی لمس ترے ہاتھوں کا
زندگی بھر کی حرارت کی طرح ہوتا ہے
خواب میں آ کے رگِ جاں میں مچلنا اس کا
موج در موج شرارت کی طرح ہوتا ہے
اس کے ہونٹوں سے ادا ہوتا ہوا ہر جملہ
جیسے لکھنؤ کی نزاکت کی طرح ہوتا ہے
مان لیں کیسے اسے دشمنِ جانی اپنا
اس کا برتاؤ حمایت کی طرح ہوتا ہے
ہم جو قسطوں میں یہ قربان ہوۓ جاتے ہیں
روز کا مرنا شہادت کی طرح ہوتا ہے
اشکؔ بس شہرِ ادب میں ہے اسی کا چرچا
شعر جو اپنا صداقت کی طرح ہوتا ہے
ابراہیم اشک
No comments:
Post a Comment