زلف و رخسار و لب کے کیا کہنے
اس پہ تیرے ادب کے کیا کہنے
دو جہاں چھوڑ کر تجھے مانگا
میرے دل کی طلب کے کیا کہنے
زخم پر زخم دیتے جاتے ہو
درد سہتا ہے،۔ مسکراتا ہے
عاشقِ جاں بَلَب کے کیا کہنے
خوب یونہی گزرتی جاتی ہے
ہستی بے سبب کے کیا کہنے
درد کے پھول کھلتے جاتے ہیں
غم میں جشنِ طرب کے کیا کہنے
شہرِ جاناں میں اک ہے آوارہ
ہاۓ اس بے لقب کے کیا کہنے
کوئی نام و نسب نہیں اپنا
میرے نام و نسب کے کیا کہنے
تجھ پہ قربان مہر و ماہ و نجوم
بے وفا تیری چھب کے کیا کہنے
ابراہیم اشک
No comments:
Post a Comment