مزارِ دل پہ تری یاد کا چراغ جلے
اسی طرح سے محبت میں میری شام ڈھلے
عجیب جشن مناتی ہے میری تنہائی
کہ موج درد مری دھڑکنوں میں پھولے پھلے
کئی سراب ہیں اس زندگی کی راہوں میں
یہ کائنات ہمیشہ پھسلتی رہتی ہے
ہر ایک موڑ پہ ناکامیوں سے ہاتھ ملے
ہزار بار گلابوں کو چھو کے دیکھا ہے
ہمیشہ آتشِ گل میں ہمارے ہاتھ جلے
گزر گئی ہے یونہی شامِ انتظار مری
کھڑا تھا سوکھے ہوۓ پیڑ کی میں چھاؤں تلے
کہاں میں ساغر و مِینا کی بات کرتا ہوں
نگاہ اس نے اٹھائی تو کتنے دور چلے
انہیں پہ ظلم و ستم اس جہاں میں ٹوٹے ہیں
کہ جو خلوص کے مارے ہوۓ ہیں لوگ بھلے
وہ حادثے کہ جو لکھے ہوۓ ہیں قسمت میں
ہمیشہ ہو کے رہے زندگی میں، وہ نہ ٹلے
ابراہیم اشک
No comments:
Post a Comment