چہرے پہ سارے شہر کے گردِ ملال ہے
جو دل کا حال ہے، وہی دلی کا حال ہے
الجھن، گھٹن، ہراس، تپش، کرب، انتشار
وہ بھیڑ ہے کہ سانس بھی لینا محال ہے
بے چہرگی کی بھیڑ میں گم ہے ہر اک وجود
جن میں یہ وصف ہو کہ چھپا لیں ہر ایک داغ
ان آئینوں کی آج بہت دیکھ بھال ہے
کشکولِ چشم لے کے پھرو تم نہ در بدر
منظورؔ قحطِ جنسِ وفا کا یہ سال ہے
ملک زادہ منظور احمد
No comments:
Post a Comment