Wednesday, 21 December 2016

چہرے پہ سارے شہر کے گرد ملال ہے

چہرے پہ سارے شہر کے گردِ ملال ہے
جو دل کا حال ہے، وہی دلی کا حال ہے
الجھن، گھٹن، ہراس، تپش، کرب، انتشار
وہ بھیڑ ہے کہ سانس بھی لینا محال ہے
بے چہرگی کی بھیڑ میں گم ہے ہر اک وجود
آئینہ پوچھتا ہے، کہاں خد و خال ہے؟
جن میں یہ وصف ہو کہ چھپا لیں ہر ایک داغ
ان آئینوں کی آج بہت دیکھ بھال ہے
کشکولِ چشم لے کے پھرو تم نہ در بدر
منظورؔ قحطِ جنسِ وفا کا یہ سال ہے

ملک زادہ منظور احمد

No comments:

Post a Comment