رندِ کم ظرف کو ساقی بھی سزا دیتا ہے
مۓ چھلکتی ہے تو محفل سے اٹھا دیتا ہے
چارہ گر خوب سمجھتا ہے کہ کن زخموں کو
کوئی مرہم نہیں، نشتر ہی شفا دیتا ہے
یہ کہیں قافلۂ صبحِ بہاراں تو نہیں؟
میکدہ کا اسی ساقی سے بھرم ہے منظورؔ
تشنہ لب رہ کے جو اوروں کو پلا دیتا ہے
ملک زادہ منظور احمد
No comments:
Post a Comment