Tuesday, 20 December 2016

تم یاد ہو تو نقش ہو میرے حواس پر

تم

تم یاد ہو تو نقش ہو میرے حواس پر
تم اشک ہو تو میرے دکھوں کا علاج ہو
تم خواب ہو تو میری ان آنکھوں میں ہو کہیں

تم وہم ہو تو مجھ کو حقیقت سے کیا غرض
تم باعثِ سفر ہو ہنر کی اڑان ہو
تم نیند ہو تو سو کے گزریں گے یہ حیات
تم حسن ہو تو میرے تخیل کی جان ہو

تم رات ہو تو مجھ کو نہیں صبح کی طلب
تم نور بن کے دل میں سمائے ہو آج کل
تم خاک ہو تو خاک نشینوں کی ہو تلاش
تم درد ہو تو روح پہ چھائے ہو آج کل

تم دشت ہو تو میں بھی مسافر ہوں دشت کا
تم چاند ہو تو تلخ اندھیروں کی فکر کیا
تم بے نیاز ہو تو زمانے سے ہو الگ
تم رنگ ہو تو پھر یہ بہاروں کا ذکر کیا

تم بے ثمر رتوں میں بہاروں کی ہو امید
تم رہگزارِ شوق میں جذبہ جنوں کا ہو
تم آرزو ہو اہلِ تمنا کی ہو خلش
تم رتجگوں کی بھیڑ میں لمحہ سکوں کا ہو

تم بے وفا رتوں میں حوالہ ہو عشق کا
تم بے بسی ہو پھر بھی محیطِ حواس ہو
تم اک کرن ہو نورِ ازل میں دھلی ہوئی
تم تازگی ہو شبنمی پھولوں کی آس ہو

تم گہرے پانیوں میں چھپے موتیوں کا لمس
تم موت کے سفر میں نشانِ حیات ہو
تم میری چشمِ نم کے ستاروں کی کہکشاں
تم حسنِ بے مثال مرے کائنات ہو

تم جب سے ہو گئے ہو مری دسترس سے دور
میں جی رہا ہوں کیونکہ ضروری ہے زندگی
سانسوں کے بوجھ کو اٹھایا ہے روح نے
لیکن ترے بغیر ادھوری ہے زندگی 

علی حسن شیرازی

No comments:

Post a Comment